!عورت مارچ

عورت مارچ
یہ پہلی مرتبہ نہ تھا جب اس نے مجھے جانواروں کی طرح مارا پیٹا تھاپر ہاں اس مرتبہ اس نے طلاق نامے کے ساتھ مجھے گھر روانہ کیا تھاگھر والے جانتے تھے کے باپ وہ نہیں بن سکتا تھا پر پھر بھی بھابھی مسلسل میرا قصور نکال رہی تھیں ، میرے بھائی میں کوئی عیب نہیں کمرے میں تینوں بھائی موجود تھے پر کسی کو میرے سر سے رستا خون تک نہ نظر آیا!
میں صبر کر کے اپنے کمرے میں چلی آئی، برے دور کا تو آغاز ماں باپ کی وفات کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھااور پھر بھا بھی کے کہنے پر بھائی نے مجھے نویں جماعت سے سکول سے اٹھا لیا تھاان کا کہنا تھا کے پڑھ لکھ کر لڑکیاں منہ زور ہوجاتی ہیں ۔ میں اپنے تین پڑے لکھے بھائیوں کی اکلوتی ان پڑھ بہن ہوں!
دن رات محنت و مشقت کر کے بھی پیٹ بھر روٹی نہ ملتی۔ ایک آدھ مرتبہ بھا ئیوں سے کہنے کی کوشش بھی کی، پر بے سود گیا۔ پاب کے اس عا لیشان کے گھر میں نیند بھی میسر نہ تھی!
کچھ عرسے بعد جب دوسرے بھائی کی شادی ہوئی تو چھوٹی بھابی کر میرا وجود ہی اس کھر میں گوارا نہ تھا ۔
دن رات کی ذلت سے زندگی مزید بوج لگنے لگی ۔ مو قعے کا فائدہ اٹھا تے ہوئے بڑی بھابی نے اپنے طلاق یافتہ بھائی سے میری شادی کروادی اور زندگی کے مزید برے دن شروع ہوگئے۔
ابھی مجھے واپس آئے ہوے ایک ہفتہ نہ گزرا تھا کے بھائیوں کو جائیداد میں سے حصہ دینے کی فکر لاحق ہو گئی اور اب تو اکثر بھائیوں کے ہاتھوں بھی تزلیل اٹھانا پڑتی! تیسرے نمبر کے بھائی کی بیوی نے اپنے بھائی کو گھر بلا کر رکھنا شرع کر دیا ۔ ایک دن اس نے مجھ پر جھپٹنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔ جب میں نے شور مچایا تو تینوں بھابیوں نے ایسا منظر نامہ کھینچا کے مجھے اپنی ذات سے گھن آنے لگی ۔ بھائیوں نے جائیداد میں سے حصہ نہ دینا پڑے اس لئے موقع غنیمت جانا اور مار پیٹ کر مجھے گھر سے نکال دیا۔
نہ سر پر آسمان تھا نہ پیروں تلے زمین تھی، میں بے یارومدد گار سڑک پر چلنے لگی تو کچھ ہی دور بھیڑ دیکھی ، پاس جانے پر معلوم ہوا آج عورتوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے! عورت مارچ چل رہی ہے!!!
لیکن اس مارچ میں موجود کچھ نعروں کو دیکھ کر سوال پیدا ہوا؟
ہمارے معاشرے میں عورت جن درپیش مسائل سے دوچار ہے ان میں تعلیم،جنسی ہراسا ں کرنا،وراثتی مسائل اور یکساں حقوق کی فراہمی ہیں یا اپنا کھانا خود گرم کرو، لو بیٹھ گئی صحیح سے ، اگر ڈوپٹہ اتنا پسند ہے تو ٓآنکھوں پر باندھ لو؟؟
اگر عورت مارچ ناگزیر ہی ہے تو ان مسائل کی نشاندہی کرنی چاہیے جو ایک خاتون کو روزانہ کی بنیاد پر درپیش ہوتے ہیں
لیکن ابھی تصویر کا ایک رخ باقی ہے ، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں سے کثرت سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن کیا کسی نے وہاں جا کر کسی مثبت پوسٹ کارڈ پر بھی نظر دوڑائی، جیسے جائیداد میں شرعی حق ، تعلیم اور صحت کا حق، لیکن کیونکہ سوشل میڈیا پر منفی چیزیں تیزی سے پھیلتی ہیں اس لیے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے متنازعہ پے کارڈز کو ہی وائیرل کیا، جو بہت سی خواتین کے لیے بھی تکلیف دے تھے۔ سوشل میڈیا پر کسی بابت فیصلہ کرنے سے پہلے تصویر کے دونوں رخ دیکھنا ناگزیر ہیں۔

https://bit.ly/2SY3gw2

Advertisements

کیا فیشن ٹرینڈز ہماری نوجوان نسل کو گمراہی کی طرف لے جارہے ہیں؟

فیشن ٹرینڈز اس تیزے سے بدلتے ہیں جیسے ہم اپنی لپسٹک کے رنگ تبدیل کرتے ہیں۔ فیشن ہمارے معاشرے کے مختلف پہلوں پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے۔ایک ریسرچ کے مطابق فیشن سماجی، اقتصادی، سیاسی مناظر میں تبدیلی کا سبب بن رہا ہے۔ ایک جگہ جہاں فیشن تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں معاشرے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے وہاں نوجوان نسل کو گمراہی کی طرف لے جا راہا ہے۔ نت نئے فیشن کے بہت سارے منفی اثرات ہمارے معاشرے کے لوگوں خاص طور پر نوجوان لڑکیوں پر پڑرہے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل فیشن اپنانے کو اپنی زندگی کا نصب العین سمجھ بیٹھی ہے۔ اب جوطبقہ تیزی سے بدلتے فیشن کو اپنا سکتا ہے وہ تو مطمین نظر آتے ہیں لیکن جو طبقہ نہیں اپنا سکتا وہ احساس کمتری کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔اور اس طرح ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے طبقات میں دن بہ دن طبقاتی فرق پیدا ہورہا ہے۔

بدلتے فیشن کا جنون ہماری نوجوان لڑکیوں میں اس قدر پایا جاتا ہے کے معاشرتی اقدار تو ایک طرف ، اسلامی اصولوں کوبھی یکسر نظرانداز کر بیٹھی ہیں۔ ہمارے اسلام نے اگرچہ انسانوں پر زیادہ پابندیاں عائدنہیں کئیں اور عورتوں کے حقوق کاتو تمام تر مذاہب سے زیادہ خیال رکھا ہے پر پھر بھی چند ایک حدودہیں جن کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔اواس میں ہی لباس کی خوبصورتی ہے ۔

پہلا فیشن ویک نیویارک میں۱۹۴۳ء میں شروع ہوا۔ اس فیشن ویک کا بنیادی مقصد دوسری جنگِ عظیم کے دوران فرانسی فیشن سے لوگوں کی توجہ ہٹانا اور امریکی ڈیزائنرزکے لئے راستہ ہموار کرنا تھا۔ اسکا مطلب فیشن کے ذریے ہم لوگوں کے رجانات بدل سکتے ہیں تو فیشن ٹرینڈز متعارف کروانے والے ایسا فیشن کیوں نہیں متعارف کرواتے جس سے پاکستانی ثقافت کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین کو بھی اجاگر کیا جائے اور ہماری نوجوان نسل خاص طور پر لڑکیوں میں اپنے لباس سے متعلق حدود کو واضع کیا جائے۔اس طرح ہمارامعاشرہ مختلف قسم کی گمراہی کا شکار ہونے سے بچ سکتا ہےاور نوجوان نسل میں بھی شعور پیدا کیا جاسکتا ہے۔

آج کل کے فیشن ٹرینڈز ہماری نسل کو بھٹکارہے ہیں، وہ اپنی تخلیقی سرگرمیوں سے دور نظر آتے ہیں وہ اپنے مستقبل کی طرف توجہ دینے کے بجائے فیشن ٹرینڈز کو اپنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ نت نئے برینڈز ، زرق برق لباس ، مختلف اقسام کے جوتے ، مہنگے سے مہنگا میک اپ اور اس طرح کی فضول خرچیاں کیا ہمارے جیسی ترقی پزیر ممالک کے لوگو کو زیب دیتی ہیں۔ اگر ہم عتدال پسندی سے کام لیں تو ہم اس طرح اپنے ملک کی ترقی ہیں حصہ لے سکتے ہیں جو کے ہمارے ملک کے لیے ایک مثبت اقدام ہوگا۔کیونکہ تیزی سے بدلتے فیشن ٹرینڈز ہماری آئندہ نسل کے لیے گمراہی اہی کا سامان ہے۔متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی نوجوان نسل جو روز روز بدلتے فیشن ٹرینڈز کو اپنا نہیں سکتی اور اس وجہ سے ہماری نسل میں احساس کمتری کا شکار ہو رہی ہے۔

اگر ہم فیشن کے مثبت پہلو کی طرف دیکھے تو فیشن ایک فن ہے جو لوگوں کواپنی تخلیقی صلاحیت اجاگر کرنے کا مو قع فرہم کرتا ہے۔ لوگ اکثر اپنی ذاتی شناخت، اپنی قابلیت، ثقافت کو اپنے فیشن کے انتخاب کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں۔ فیشن ٹریندز کے زریعے ہم اپنی معاشرتی ا قدار کو نمایا کر سکتے ہیں اور نوجوان نسل کی سوچ میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں تاکے معاشرے میں طبقاتی فرق کو بھی مٹایا جاسکے اور اسلامی معاشرے کی خصوصیات کو بھی اجاگر کیا جاسکے۔ خدا نے دنیا میں جتنی بھی چیزیں بنا رکھی ہیں ہر چیز کی حد مقرر کر رکھی ہے اور یہ اسی حدود میں ہی اس کائنات کی خوبصورتی پوشیدہ ہے۔اور خدا کی بنائی ہوئی حد جب بھی کوئی چیز پھلانگتی ہے تو تباہی کا باعث بنتی ہے۔

پاکستانی معاشرے میں بھی لباس کو لے کر کچھ رسم و رواج پایا جاتا ہےجو ہمارے پاکستانی ثقافت کی پہچان ہے۔ بدلتے فیشن نے ہماری ثقافت کر کہی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ہم اپنی پہچان کھوتے جارہے ہیں۔ اس لیے فیشن ٹرینڈز متعارف کروانے والوں کو اورفیشن ٹرینڈز اپنا نے والوں کو ان حدود کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ اس چیز کا بھی دھیان رکھنا چاہیےکے کس ملک کے لیے متعارف کروا رہے ہیںاور ان ممالک کی کیا رسم و رواج ہیں۔ اس طرح بہت سے معاشرے تباہی کا شکار ہونے سے بچ جایے گے۔

تحریر: سیدہ ثناء بتول کاظمی 

http://dailycomrade.pk/urdu-blog/430/

Cyber harassment

new-dawn
blackmail, non-consensual use of images, unsolicited contact — these are just a few of the most frequent problems complainants reached out to Digital Rights Foundation’s cyber harassment helpline for. The advocacy NGO recently published a detailed 33-page report on online harassment, breaking down the 2,781 phone calls and 134 email messages it received between December 2016 and November 2018. In these two years, DRF’s helpline received 660 Facebook-related complaints, and 220 complaints related to WhatsApp. Women constituted the majority (59pc) of callers, while several of the remaining male callers were registering complaints on behalf of women they knew. Most were young, between the ages of 21 and 25. And few were aware of the Prevention of Electronic Crimes Act, 2016, and their digital rights and responsibilities — a startling fact considering that almost one fifth of Pakistan’s population now uses the internet.

Greater access to communication technologies is viewed as a marker of progress. The internet — often touted as a tool owned by ‘nobody’ and therefore for ‘everybody’ — allows for the sharing of knowledge and information. But there’s a dark side to this freedom, and a host of unprecedented challenges to grapple with: financial fraud and scamming, identity theft and impersonation, stalking, doxxing, bullying and gender-based harassment that quickly takes on a sexual nature, etc. Cloaked in anonymity, malicious users indulge in antisocial behaviour and hate speech that are less likely to be accepted in the ‘real world’. For women in particular, the internet experience can be highly stressful and, in some cases, even dangerous. And, like other marginalised groups, this is not even accounting for the myriad barriers they encounter prior to accessing online spaces. Harassment — whether in the physical or virtual realm — is a tactic of exerting dominance and control, which pushes women and marginalised groups out of spaces they have every right to occupy. At the very least, policymakers should take necessary steps to ensure that those who navigate this space can do so in safety.

Published in Dawn, January 11th, 2019

https://bit.ly/2Rpk2Yr

!مون سون کی بارش

37772603-rainy-day-pictures.jpg

یہ جولائی کی تپتی دوپہر تھی جب میں اپنی بہن کے ساتھ بازار جانے کی غرض سے گھر سے نکلی ۔ میری بہن جو کے بیرون ملک سے پاکستان چھوٹیا ں گزارنے آئی تھی۔ یہ ہی وجہ تھی کے میں اسکو اس تپتی دوپہر میں باہر جانے سے انکار نہ کر سکی! جب ہم گھر سے نکلے ، تو موسم اس قدر گرم تھاکے سانس لینا بھی محال تھا پر جب ہم واپسی کے لئے گھر کی طرف گامزن تھے تو موسم انتہائی خوشگوار تھا۔۔۔

ایسا محسوس ہو راہا تھا کے جیسے کبھی گرمی تھی ہی نہیں۔ کالے سیاہ بادلوں نے پورے آسمان کو ڈھانپ لیا تھا اچانک سے ٹھنڈی ہوائیں چلیں کے مزاج تک مہک اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے بوندا باندی شروع ہو گئی اور کچھ ہی پل میں یہ بوندا باندہ تیز بارش میں بدل گئی اتنی تیز بارش کے کار کی ونڈسکرین سے باہر کا منظر نظر آنا بند ہو گیا ڈرا ئیور نے کار کو سڑک کے کنارے پر روکنے میں آفیت جانی۔

میں نے کار کا شیشہ نیچے کر کے بارش کی ٹھنڈک محسوس کرنے کی کوشش کی بارش اس قدر تیز تھی کے باہر سارے منظر دھندلا گئے تھے۔ بہت ہی خوشگوار موسم ہو گیاکہ بیان کرنا مشکل ہیں۔۔۔ ایسا صحر انگیز منظر جس نے مجھے اپنے احصار میں لے لیا! اورپھر چند ہی لمحوں میں دھوپ نکلنا شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی تیز کڑاکے دار دھوپ نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، یہ تمام تر صورتِ حال دیکھی تو ذہن میں صروف اورصرف ایک ہی خیال آیا
!مرد کی محبت۔۔۔

مرد کی محبت بھی بلکل مون سون کے بادلوں کے جیسی ہے! جب محبت کا آغاز ہوتا ہے تو اس کے حصار میں عورت اپنے آپ کو دل وجان سے بھیگتا محسوس کرتی ہے وہ بے حد محبت نثار کرتا ہے لگتا ہے وہ دنیا کی خوش نصیب عورت ہے اور یہ احساس بلکل مون سون کے بادلوں جیسا ہے جب یہ بادل چھاتے ہیں تو پورے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کے یہ کبھی نہ ختم ہونے والے بادل ہیں جن سے کبھی نہ ختم ہونے والی بارش ہو گی۔۔۔! اتنی تیز بارش جس کی ٹھنڈک دل و جان میں اترتی محسوس ہوتی ہے گہرے سیاں بادل رم جھم کرتے پانی کے قطرے جو روح تک کو تر کردیں۔۔۔
ایسی ٹھنڈک جو آنکھوں سے سیدھا دل میں اترجاتی ہے! پر دیکھے ہی دیکھے یہ بادل چھٹ جاتے ہیں اور اتنی تیز دھوپ نکلتی ہیں جو روح تک کو جھلس دیتی ہے۔۔۔! محسوس ہوتا ہے کبھی بادل ہی نہ آے نہ ہی بارش ہوئی! وہ احساس جو روح کو تروتازگی بخش رہا ہوتا ہے وہی احساس ، احساسِ ندامت بن جاتا ہے۔۔۔

A silent message for all girls…

How can we mitigate our depression

images (3)

 

Today I will discuss how to mitigate our depression through some effective ways. Nowadays depression is being common disease among us specially, in youth.

For alleviate depression you should start writing. A person who is suffering from depression, in this condition take him anywhere he feels dissatisfied and sad.

writing1-300x225

He doesn’t able to understand his condition and properly can’t manage own feelings; write whatever you feel, this is the best way to take over anxiety and express your feeling. Some researchers have proven that is the best way to take over your depression.

6cbe0bbf2ce2b945716133f85f698353

The second method that should be used to curtail your depression, it’s a walk and exercise. When you are wakes up early in the morning and exercise so the human body absorbs more oxygen as a result negative hormones less and produces that kind of hormone who give positive signals to brain, Yoga is also healthy treatment for decreasing depression.

Free-Falling-Cup-Wallpaper-for-Girls-Laptop.jpg

Another way to decrease depression is to ignore caffeine.  A famous psychiatrist Timothy Lake from New York said, “i was also suffering from depression and that depression was causing of Anxiety and panic, I felt that this disease was making me addicted to caffeine and after drink it i felt more anxiety and panic”.

thumb-1920-2957.jpg

When you have to feel anxiety, panic or depression should eat something testy, after eating you will feel better. Mostly people say we don’t eat due to busyness because we don’t have time to take breakfast, lunch, supper or dinner, but Doctor Timothy Lake said, whenever he feels depressed he eats tasty food.

591378-perfume-wallpapers-1920x1080-hd.jpg

The last and my favorite point is that to use some fragrance whenever you are feeling depression. It is said, fragrance is a sensitive and stunning invention of beings because it reduce mental panic of humans.

Why we are afraid to talk about rape?

rape-655x339

 

Is it a sin to talk about rape???

 

Is it a sin to talk about rape? Why we are frightened to talk about rape? Why victim of rape is scared, rapist should afraid, who committed crime. Why we are always blame on girl in such vicious crime which she  face in her whole life. Only girl is not the victim of rape but entire family has to face it.

Why our society doesn’t give the right of survival to victim? Most of the time we hear that girl show some vin to attain attention in sense of rape. Why do people forget? This ruthless crime can also be with own family. The problem arises when victim treat as a culprit they do not even talk about this incident. These are the questions came to my mind whenever I hear about rape.

Why we are afraid? We should change our behavior about this barbarous crime, society should change their stereotype thinking. If we will not talk on this issue the crime rate will increase day by day.

Now a days rape rate has been increasing day by day in Pakistan. Daily we hear the rape news in different parts of country. This is extreme level of injustice that culprits live freely and victim trying to hide their self.

The data of registered cases, at least 206 gang-raped, 2840 raped, and 681 have been murdered across the country, In total, more than 5660 crimes were reported against women in Pakistan’s four provinces during the first 10 months of the year.

These are the cases that have been reported but there are many incidents that haven’t yet been reported; which gives courage to culprit and he once again commit this vicious crime with another girl. Nowadays rapist first rape, then murder her so that they don’t leave back proof. This is the result of our silence.

 Our silence gave courage to culprits. In present, rape victim Abida in Chichawatni is an enormous example to us; firstly she raped then ruthlessly murdered. After take notice by chief justice of Pakistan concerned department listened the voice of her family.

If we through back we found a brave woman who took stand, reported FIR and fought fearlessly for justice and raised her voice against criminals then the culprits were punished through high court of Pakistan; she was suffered but didn’t lose hope and created an example for other, she didn’t go with the stereotype thinking of our society.

 Her name is Mukhtaran mai, now she is treated as an icon and invited in different shows, red carpet and try to spread awareness among other women through her.

Nowadays, we need to raise voice against this ruthless crime; we should stand up with victim and trying to get justice, it is necessary for the integrity and survival of our daughters and sisters. Government should make some strict laws and should try to impose them against rapist and take immediately action against criminals. This is the way we save our families.

 

 

 

Ruthless men not only burn women’s face but also destroy her life!

1498995099-Acid Attack UP lucknow women

 

From last few days, I was hearing different news about acid throw on college girls, women and even children. Such kind of news forced me to write something about this heinous crime of society.

When vicious person throw acid on woman, in this process not only burn her face or body but also her whole life. If atrocious person punished, can we properly save victim’s life? Is she can live same life before acid attack?

Does doctor make same effected parts like God gave woman? In any crime this punishment or action is not acceptable at any coast. As a human being we should raise voice against this heinous crime.

In Pakistan this crime has been increasing day by day. If women obey men’s order then okay; if she rejects then she deserve punishment and punishment decided by men.  He will decide either murdered her or throw acid or treat with brutality.

This crime was common in our villages but now this crime is also caught in cities. We are listening many news about this crime. Why we never find to listen, wife’s throw acid on husband because of his loose character. Wife’s murdered her Husband  because of his obscene activities.

If accidentally our police detained criminal he is simply said she had loose character that’s why I had done this. When police investigate all the matter; find 90 percent women are innocent in that kind of cases; and proved they were liar. Few of them, got punishment; mostly set free on the base of settlement.

When we talk about character, men immediately talk about Islam and said Islam gave him permission to strictly punish women. Here is a question raise in my mind; it is the religion who gave order human to be kind even with animals. How can Islam allows to persecute any human being in brutality manner?

Many laws are present in our country but there is no implementation. Acid attacks became illegal in Pakistan in 2010 when parliament passed the Acid Control and Acid Crime Prevention Bill, which can carry punishments of lifetime imprisonment. But the law is rarely enforced in rural areas, so acid attacks continue.

HRCP recorded 51 cases of acid attacks with 67 female victims in 2016. Using statistics to support her claim, Khan-Yusfuzai says: “In 2012, only one per cent of the FIRs were registered under this law. In 2013, that percentage rose to 71.”

Mostly, women are not reported FIR against this illegal activity, if any woman reported, her family bear down to take back FIR before punishment. Now that’s fault of our people not our laws.

Personal satisfaction or revenge in some domestic issue is basic reason of this crime and criminal shouldn’t refer our ‘sacred religion’ when he commit this atrocious crime. Throw acid on women is completely vicious activity, so we should take action against this crime.

stop_acid_violence.gif